8 اشعار

خواہش تخت و تاج اور ہے کچھ

Khwahish-e-takht-o-taj aur hai kuch

خواہش تخت و تاج اور ہے کچھ

«خواہش تخت و تاج اور ہے کچھ» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

خواہش تخت و تاج اور ہے کچھلیکن اپنا مزاج اور ہے کچھ

کیا بھروسا بدلتے موسم کارنگ کل کچھ تھا آج اور ہے کچھ

پاسداری یہاں نہیں چلتیاس نگر کا رواج اور ہے کچھ

خوش نہ ہو ہم جو ہو گئے خاموشصورت احتجاج اور ہے کچھ

کام چلتا نہیں ہے مرہم سےزخم دل کا علاج اور ہے کچھ

سوچنا اور اداس ہو جاناحال ہی دل کا آج اور ہے کچھ

اک زمانہ تھا ہم مزاج تھے ہماب تو اس کا مزاج اور ہے کچھ

شعر کہنا ہے ایک فن محسنؔدفتری کام کاج اور ہے کچھ

— محسن زیدی