8 اشعار

کسی کے دوش نہ مرکب سے استفادہ کیا

Kisi ke dosh na markab se istifada kiya

کسی کے دوش نہ مرکب سے استفادہ کیا

«کسی کے دوش نہ مرکب سے استفادہ کیا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کسی کے دوش نہ مرکب سے استفادہ کیایہاں تلک کا سفر ہم نے پا پیادہ کیا

جہاں پہ دیکھے قدم اپنے کچھ بھٹکتے ہوئےوہیں ٹھہر کے فروزاں چراغ بادہ کیا

لباس بدلے نہیں ہم نے موسموں کی طرحکہ زیب تن جو کیا ایک ہی لبادہ کیا

امیر شہر سبھی تھے شریک مشق ستمکسی نے کم تو کسی نے ستم زیادہ کیا

ہر ایک بار قدم بت کدے میں لوٹ آئےخدا گواہ ہے مسجد کا جب ارادہ کیا

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھےنہ جانے دل نے اسے یاد کیوں زیادہ کیا

کوئی اکیلا تو میں سادگی پسند نہ تھاپسند اس نے بھی رنگوں میں رنگ سادہ کیا

بہت ہی تنگ تھی محسنؔ یہ رہ گزار غزلہم اہل فکر و نظر نے اسے کشادہ کیا

— محسن زیدی