7 اشعار

یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا

Ye sukhan jo meri zaban pe hai ye sukhan hai us ka kaha hua

یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا

«یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوایہ بیاں جو ہے مرے نام سے یہ بیاں ہے اس کا لکھا ہوا

وہی میلی میلی سی چاندنی وہی دھندلی دھندلی سی روشنییہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا

وہی ایک یاد کرن کرن مری زندگی میں ہے ضو فگنوہی ایک چہرہ چمن چمن سر دشت جاں ہے کھلا ہوا

سر راہ کچھ نہ پتا چلا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیاکہیں نقش پا تھا بنا ہوا کہیں نقش پا تھا مٹا ہوا

کروں دوستوں کو میں نذر کیا مرے پاس دام و درم کہاںوہ جو دشمنوں کا حساب تھا وہ تو نقد جاں سے ادا ہوا

نہ کسی کی یاد کا نقش ہے نہ کسی کے رخ کا یہ عکس ہےیہ نہ کوئی حرف نہ لفظ ہے سر خاک کیا ہے لکھا ہوا

مجھے محسنؔ اس کا گلہ نہیں مجھے مال و زر جو ملا نہیںجو ہنر سخن کا مجھے ملا وہ کہاں سبھی کو عطا ہوا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں