7 اشعار

یہ جور اہل عزا پر مزید کرتے رہے

Yeh jaur-e-ahl-e-aza par mazeed karte rahe

یہ جور اہل عزا پر مزید کرتے رہے

«یہ جور اہل عزا پر مزید کرتے رہے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

یہ جور اہل عزا پر مزید کرتے رہےستم شعار محرم میں عید کرتے رہے

ہمارے دم سے رہا دور بادہ پیمائیکہ اپنے خون سے ہم مے کشید کرتے رہے

گلہ تو یہ ہے کہ جتنے امیر شہر ہوئےغریب شہر کو سب ناامید کرتے رہے

کیا ہے ہم نے ہمیشہ ہی کاروبار زیاںکہ سستا بیچ کے مہنگا خرید کرتے رہے

کسی سے شہر خموشاں میں کہتے سنتے کیاہم اپنے آپ سے گفت و شنید کرتے رہے

وہ زیر خنجر قاتل نہ تھا گلو کوئیوہ اک خیال تھا جس کو شہید کرتے رہے

مرا کلام تو کیا ناقدین فن محسنؔکلام حق میں بھی قطع و برید کرتے رہے

— محسن زیدی