6 اشعار

اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی

Ab kaun baat reh gai yeh baat bhi gai

اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئییعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی

کہتے ہیں وہ کہ جذبۂ دل اب فریب ہےجب دل گیا تو دل کی کرامات بھی گئی

جو کچھ کیا وہ تو نے کیا اضطراب شوقسو آفتیں بھی آئیں مری بات بھی گئی

دستار آپ کی جو ہوئی رہن میکدہتوبہ ہماری قبلۂ حاجات بھی گئی

وعدے کی کون رات قیامت کا دن نہیںآثار صبح کہتے ہیں یہ رات بھی گئی

مانا کہ دن سدھارے مبارکؔ شباب کےرنگیں طبیعتوں سے ملاقات بھی گئی

— مبارک عظیم آبادی