7 اشعار

عجب رنگ کی مے پرستی رہی

Ajab rang ki mai parasti rahi

عجب رنگ کی مے پرستی رہیکہ بے مے پیے مے کی مستی رہی

بکھرتے رہے گیسوئے عنبریںصبا ان سے مل مل کے بستی رہی

رہا دور میں ساغر نرگسیمری مے ان آنکھوں کی مستی رہی

وہ شکل اپنی ہر دم بدلتے رہےیہاں مشق صورت پرستی رہی

وہیں رہ پڑے راہ میں حسن دوستجہاں حسن والوں کی بستی رہی

ملی روز ہم فاقہ مستوں کو مےخدا جانے مہنگی کہ سستی رہی

مبارکؔ پرستار مے خانہ تھایہ جب تک رہا مے پرستی رہی

— مبارک عظیم آبادی