4 اشعار

دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے

Dekhe use har aankh ka yeh kaam nahin hai

دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہے

میں معترف جرم ہوں جو چاہو سزا دوالزام تمنا کوئی الزام نہیں ہے

وہ صبح بھی ہوتی ہے شب تار سے پیداجس کو خطر تیرگئ شام نہیں ہے

جو دل ہے وہ لبریز تمنا ہے مبارکؔاس جام سے اچھا تو کوئی جام نہیں ہے

— مبارک عظیم آبادی