5 اشعار

نہ لائے تاب دید اوسان والے

Na laaye taab-e-deed ousan wale

نہ لائے تاب دید اوسان والےترے جلوے بھی ہیں کیا شان والے

ہزاروں مے کدے سر پر لیے ہیںیہ بادل ہیں بڑے سامان والے

میں ان سے اپنے ارماں کہہ رہا ہوںوہ کہتے ہیں بڑے ارمان والے

تری کافر ادا نے کس کو چھوڑاکہیں ایمان سے ایمان والے

حسینوں سے مبارکؔ دب کے ملناکہ ہیں وہ آن والے شان والے

— مبارک عظیم آبادی