5 اشعار

بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے

Baghal mein hum ne raat ek ghairat-e-mahtab dekha hai

بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہےتمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہے

تڑپ بجلی کی بھی دیکھی ہے وہ دل تھام لیتے ہیںتری بے تابیوں کو بھی دل بے تاب دیکھا ہے

وہ الفت دوست ہوں ناصح دعا ہی دل سے نکلی ہےاگر دشمن کے گھر بھی مجمع احباب دیکھا ہے

خدا کے سامنے اے محتسب سچ بولنا ہوگامرے ساغر میں مے دیکھی ہے یا خوں ناب دیکھا ہے

مبارکؔ اضطراب شوق کا عالم نہیں چھپتاکہ جب دیکھا ہے ہم نے آپ کو بے تاب دیکھا ہے

— مبارک عظیم آبادی