5 اشعار

چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے

Chitwan jo qahr ki hai to tewar jalal ke

چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کے

واعظ سے بحث بادہ و پیمانہ کیا کروںکچھ لوگ رہ گئے ہیں پرانے خیال کے

سو داغ جن کے لائے ہیں زیر مزار ہماحساں جتا رہے ہیں وہ دو پھول ڈال کے

پھر ڈھونڈھتا ہے دل خلش خار آرزوپچھتا رہا ہوں دل سے یہ کانٹا نکال کے

یہ غم کدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاںغم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے

— مبارک عظیم آبادی