6 اشعار

درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی

Dard-e-dil yaar raha dard se yari na gai

درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئیزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئی

دن کے نالے نہ گئے رات کی زاری نہ گئینہ گئی دل سے کبھی یاد تمہاری نہ گئی

ہم تو خوں گشتہ تمناؤں کے ماتم میں رہےسینہ کوبی نہ گئی سینہ فگاری نہ گئی

انتظار آپ کا کب لطف سے خالی نکلارائیگاں رات کسی روز ہماری نہ گئی

بخشوایا مجھے تم نے تو خدا نے بخشانہ گئی روز جزا بات تمہاری نہ گئی

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ لیکندن ہمارا نہ گیا رات ہماری نہ گئی

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں