7 اشعار

پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی

Phir mile hum un se phir yaari barhi

پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھیاور الجھا دل گرفتاری بڑھی

مہربانی چارہ سازوں کی بڑھیجب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی

ہجر کی گھڑیاں کٹھن ہوتی گئیںدن کے نالے رات کی زاری بڑھی

پھر تصور میں کسی کے نیند اڑیپھر وہی راتوں کی بے داری بڑھی

سختیاں راہ محبت کی نہ پوچھہر قدم اک تازہ دشواری بڑھی

خیر ساقی کی سلامت مے کدہجس قدر پی اتنی ہشیاری بڑھی

دور دورے ہیں مبارکؔ جام کےانتہا کی اپنی مے خواری بڑھی

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں