6 اشعار

عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں

Ishq ki chausar kis ne kheli yeh to khel hamare hain

عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیںدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں

کیسے کیسے لخت جگر ہیں کیا کیا دل کے پارے ہیںایسے لعل کہاں دنیا میں جیسے لعل ہمارے ہیں

اس کو مارا اس کو مارا یہ بسمل وہ ٹوٹ گیانوک پلک والوں سے ڈریے قاتل ان کے اشارے ہیں

چھلنی چھلنی دل بھی جگر بھی روزن روزن سینہ بھیایک نگاہ ناز نے تیری تیر ہزاروں مارے ہیں

پھونک رہا ہے سوز نہانی کون اس آگ پہ ڈالے پانیدل کی لگی نے آگ لگا دی داغ نہیں انگارے ہیں

لالہ رخوں میں عمر گزاری دیکھی ان کی فصل بہارآج بھی گل سے گالوں والے مجھ کو مبارکؔ پیارے ہیں

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں