3 اشعار

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

Le chala phir mujhe dil yaar-e-dil-aazar ke paas

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاساب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس

میں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گاکہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس

تو تو احسان جتاتی ہوئی آتی ہے صبایوں بھی آتا ہے کوئی مرغ گرفتار کے پاس

— مبارک عظیم آبادی