4 اشعار

پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں

Poochhi taqseer to bole koi taqseer nahin

پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیںہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیں

ہم بھی دیوانے ہیں وحشت میں نکل جائیں گےنجد اک دشت ہے کچھ قیس کی جاگیر نہیں

اک تری بات کہ جس بات کی تردید محالاک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں

کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں جان آ جائےاس لیے ہاتھ میں لیتے مری تصویر نہیں

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں