5 اشعار

یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے

Yahan kya hai wahan kya hai idhar kya hai udhar kya hai

یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہےکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہے

نہ ہو جس سر میں سودا سرفروشی کا وہ سر کیا ہےنہ پھونکے خرمن ہستی تو وہ سوز جگر کیا ہے

ترے انداز کے بسمل ہیں ہم ہم سے کوئی پوچھےتری بانکی ادا کیا ہے تری ترچھی نظر کیا ہے

جہاں سامان وحشت کے اسے وحشت سرا کہیےجہاں اسباب ویرانی وہ ویرانہ ہے گھر کیا ہے

گئے وہ اور یہ کہتے گئے او جذب دل والےمجھے بھی دیکھنا ہے جذبۂ دل کا اثر کیا ہے

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں