8 اشعار

محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تک

Mohabbat mein thani aksar yahan tak

محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تککہ پہنچے معرکے تیر و کماں تک

چلے ناوک کھنچی ظالم کماں تککہاں تک امتحاں آخر کہاں تک

چلے جاتے ہیں آواز جرس پرپہنچ جائیں گے بچھڑے کارواں تک

ہوائے شوق کے جھونکے سلامترہوگے تم پس پردہ کہاں تک

نہ وہ عیار مجھ سے پوچھتا ہےنہ دل کی بات آتی ہے زباں تک

اسی سر کو سر شوریدہ کہیےجو پہنچے اس کے سنگ آستاں تک

نیاز و ناز کے چرچے رہیں گےہماری اور تمہاری داستاں تک

مبارکؔ کو کوئی دن اور سن لوبیاں کا لطف ہے اس خوش بیاں تک

— مبارک عظیم آبادی