4 اشعار

ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہے

Sitam karo na karo ikhtiyar baqi hai

ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہے

گئی بہار مگر اپنی بے خودی ہے وہیسمجھ رہا ہوں کہ اب تک بہار باقی ہے

ہزار مرحلۂ انتظار طے بھی ہوئےہزار مرحلۂ انتظار باقی ہے

شکست توبہ ہے ایسی ثواب میں داخلابھی سے توبہ مبارکؔ بہار باقی ہے

— مبارک عظیم آبادی