9 اشعار

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

Apne ka hai gunah begane ne kya kya

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

«اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیااس دل کو کیا کہوں کہ دوانے نے کیا کیا

یاں تک ستانا مج کو کہ رو رو کہے تو ہائےیارو نہ تم سنا کہ فلانے نے کیا کیا

پردہ تو راز عشق سے اے یار اٹھ چکابے سود ہم سے منہ کے چھپانے نے کیا کیا

آنکھوں کی رہبری نے کہوں کیا کہ دل کے ساتھکوچے کی اس کے راہ بتانے نے کیا کیا

کام آئی کوہ کن کی مشقت نہ عشق میںپتھر سے جوئے شیر کے لانے نے کیا کیا

ٹک در تک اپنے آ مرے ناصح کا حال دیکھمیں تو دوانا تھا پہ سیانے نے کیا کیا

چاہوں میں کس طرح یہ زمانے کی دوستیاوروں سے دوست ہو کے زمانے نے کیا کیا

کہتا تھا میں گلے کا ترے ہو پڑوں گا ہاردیکھا نہ گل کو سر پہ چڑھانے نے کیا کیا

سوداؔ ہے بے طرح کا نشہ جام عشق میںدیکھا کہ اس کو منہ کے لگانے نے کیا کیا

— محمد رفیع سودا