7 اشعار

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

Barhaman but-kade ke, Shaikh bait-ullah ke sadqe

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

«برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقےکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے

جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کیاگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے

نہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پراثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے

عجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہےمیں اس ریش بلند اور دامن کوتاہ کے صدقے

نہیں بے وجہ کوچے سے ترے اٹھنا بگولے کاہماری خاک بھی جاتی ہے تیری راہ کے صدقے

کبھو وہ شب بھی اے پروانہ حق باہم دکھاوے گاتو بل بل شمع پر جاوے میں ہوں اس ماہ کے صدقے

دکھاتی ہے تجھے کس کس طرح سوداؔ کی نظروں میںجو ہو انصاف تو جاوے تو اس کی چاہ کے صدقے

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں