7 اشعار

کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو

Keejiye na aseeri mein agar zabt-e-nafs ko

کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو

«کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کو» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کیجئے نہ اسیری میں اگر ضبط نفس کودے آگ ابھی شعلۂ آواز قفس کو

بہہ جاوے لہو ہو کے دل قافلہ سالارتعلیم دے نالہ جو مرا بانگ جرس کو

پہنچے ہے نم داغ جگر تا سر مژگاںشاداب میں رکھتا ہوں سدا آگ سے خس کو

پھرتا ہے ادھر زلف میں شانہ تو ادھر دلیہ دزد نہ لایا کبھو خاطر میں عسس کو

اے عشق نہ فرہاد بچا تجھ سے نہ پرویزبا خاک برابر تو کیا ناکس و کس کو

لے سکتے نہیں سانس تری کو کے مقیدتا خون جگر بیچ نہ غوطہ دیں نفس کو

ترغیب نہ کر سیر چمن کی ہمیں سوداؔہر چند ہوا خوب ہے واں لیک ہوس کو

— محمد رفیع سودا