6 اشعار

بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی

Bechain jo rakhti hai tumhein chah kasu ki

بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی

«بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کی» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

بے چین جو رکھتی ہے تمہیں چاہ کسو کیشاید کہ ہوئی کارگر اب آہ کسو کی

اس چشم کا غمزہ جو کرے قتل دو عالمگوشے کو نگہ کے نہیں پرواہ کسو کی

زلفوں کی سیاہی میں کچھ اک دام تھے اپنےقسمت کہ ہوئی رات وہ تنخواہ کسو کی

کیا مصرف بے جا سے فلک کو ہے سروکاروہ شے کسو کو دے جو ہو دل خواہ کسو کی

دنیا سے گزرنا ہی عجب کچھ ہے کہ جس میںکوئی نہ کبھو روک سکے راہ کسو کی

چھینے سے غم عشق شکیبائی و آراماے دل یہ پڑی لٹتی ہے بنگاہ کسو کی

— محمد رفیع سودا