9 اشعار

دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے

Dil le ke hamara jo koi talib-e-jaan hai

دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے

«دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

دل لے کے ہمارا جو کوئی طالب جاں ہےہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جی ہے تو جہاں ہے

ہر ایک کے دکھ درد کا اب ذکر و بیاں ہےمجھ کو بھی ہو رخصت مرے بھی منہ میں زباں ہے

اس عشق کے ہے تو ہی سزا وار کہ ہر ایکدل دے کے ترے نام کو جویائے نشاں ہے

جویندۂ ہر چیز ہے یابندہ جہاں میںجز عمر گزشتہ کہ وہ ڈھونڈو تو کہاں ہے

پیری جو تو جاوے تو جوانی سے یہ کہناخوش رہیو مری جان تو جیدھر ہے جہاں ہے

پہنچا نہ کوئی مرغ کبھو اپنے چمن تکجز طائر حسرت کہ وہ یاں بال فشاں ہے

تجھ سے تو کسو طرح مرا کچھ نہیں چلتاجز خون کہ آنکھوں سے شب و روز رواں ہے

ساقی تو نظر کیجیو ٹک صبح چمن کواس پیر کے جلوے کا بھلا کوئی جواں ہے

سوداؔ کا ترے دشت میں طفلاں سے ہے یہ حالجیدھر وہ کھڑا ہووے تو جوں سنگ نشاں ہے

— محمد رفیع سودا