6 اشعار

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

Dekhoon hoon yun mein us sitam-eejad ki taraf

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

«دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرفجوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرف

نے دانہ ہم قیاس کیا نے لحاظ دامدھنس گئے قفس میں دیکھ کے صیاد کی طرف

ثابت نہ ہووے خون مرا روز باز پرسبولیں گے اہل حشر سو جلاد کی طرف

پتھر کی لیکھ تھا سخن اس کا ہزار حیفبولی زبان تیشہ نہ فرہاد کی طرف

طرہ کے تیرے واسطے صد چوب شانہ دارقمری گئی ہے کاٹنے شمشاد کی طرف

سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف

— محمد رفیع سودا