5 اشعار

مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے

Magar woh deed ko aaya tha bagh mein gul ke

مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے

«مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کےکہ بو کچھ اور میں پائی دماغ میں گل کے

عدو بھی ہو سبب زندگی جو حق چاہےنسیم صبح ہے روغن چراغ میں گل کے

چمن کھلیں ہیں پہنچ بادہ لے کے اے ساقیگرفتہ دل مجھے مت کر فراغ میں گل کے

نہیں ہے جائے ترنم یہ بوستاں کہ نہیںسوائے خون جگر مے ایاغ میں گل کے

علی کا نقش قدم ڈھونڈھتا ہے یوں سوداؔپھرے ہے باد سحر جوں سراغ میں گل کے

— محمد رفیع سودا