8 اشعار

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

Tujh ishq ke mareez ki tadbeer shart hai

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

«تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہےلیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے

سودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہےدیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے

نالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنےپتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے

ہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تریمس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے

کافی ہے اک اشارۂ ابرو ترا ہمیںکچھ عاشقوں کے قتل کو شمشیر شرط ہے

دل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبرہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے

کرتا ہے کس گنہ پہ عقوبت ہمیں تو یارتعزیر کے تو واسطے تقصیر شرط ہے

سوداؔ میں اس چمن میں ہوں جوں غنچہ دل گرفتماتم سرا میں صورت دلگیر شرط ہے

— محمد رفیع سودا