10 اشعار

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا

Dil mat tapak nazar se ki paaya na jaega

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا

«دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گاجوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا

رخصت ہے باغباں کہ تنک دیکھ لیں چمنجاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا

آنے سے فوج خط کے نہ ہو دل کو مخلصیبندھوا ہے زلف کا یہ چھٹایا نہ جائے گا

پہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھوجوں گل یہ چاک جیب سلایا نہ جائے گا

تیغ جفائے یار سے دل سر نہ پھیریوپھر منہ وفا کو ہم سے دکھایا نہ جائے گا

آوے گا وہ چمن میں نہ اے ابر جب تلکپانی گلوں کے منہ میں چوایا نہ جائے گا

عمامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخسجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا

زاہد گلے سے مستوں کے باز آنے کا نہیںتا مے کدے میں لا کے چھکایا نہ جائے گا

ظالم نہ میں کہا تھا کہ اس خوں سے درگزرسوداؔ کا قتل ہے یہ چھپایا نہ جائے گا

دامان و داغ تیغ کو دھویا تو کیا ہواعالم کے دل سے داغ دھلایا نہ جائے گا

— محمد رفیع سودا