6 اشعار

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا

Bulbul ne jise ja ke gulistan mein dekha

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا

«بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھاہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا

روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخاجس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا

برہم کرے جمعیت کونین جو پل میںلٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا

واعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیںاس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا

اے زخم جگر سودۂ الماس سے خو کرکتنا وہ مزا تھا جو نمک دان میں دیکھا

سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہکیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں