7 اشعار

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست

Hindu hain but parast Musalman Khuda parast

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست

«ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرستپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست

اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹمعدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست

دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میںآتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست

چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گرآئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا پرست

آوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعد مرگہر ذرہ میری خاک کا ہوگا ہوا پرست

خاک فنا کو تاکہ پرستش تو کر سکےجوں خضر مت کہائیو آب بقا پرست

سوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیےاے خود پرست حیف نہیں تو وفا پرست

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں