7 اشعار

دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو

Dildaar is ko khwah dil-aazaar kuch kaho

دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو

«دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہوسنتا نہیں کسو کی مرا یار کچھ کہو

غمزہ ادا نگاہ تبسم ہے دل کا مولتم بھی اگر ہو اس کے خریدار کچھ کہو

شیریں نے کوہ کن سے منگائی تھی جوئے شیرگر امتحاں ہے اس سے بھی دشوار کچھ کہو

ہر آن آ مجھی کو ستاتے ہو ناصحوسمجھا کے تم اسے بھی تو یک بار کچھ کہو

اے ساکنان کنج قفس صبح کو صباسنتے ہیں جائے گی سوئے گلزار کچھ کہو

عالم کی گفتگو سے تو آتی ہے بوئے خوںبندہ ہے اک نگہ کا گنہ گار کچھ کہو

سوداؔ موافقت کا سبب جانتا ہے یارسمجھے مخالف اس کو کچھ اغیار کچھ کہو

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں