7 اشعار

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

Tujh qaid se dil ho kar azaad bahut roya

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

«تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویالذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا

تصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھیانداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا

نالے نے ترے بلبل نم چشم نہ کی گل کیفریاد مری سن کر صیاد بہت رویا

جوئیں پڑی بہتی ہیں جا دیکھ گلستاں میںتجھ قد سے خجل ہو کر شمشاد بہت رویا

آئینہ جو پانی میں ہے غرق یہ باعث ہےتجھ سخت دلی آگے فولاد بہت رویا

یاں تک مرے مشہد سے ہے تشنہ لبی پیدااس سمت جو ہو گزرا جلاد بہت رویا

سوداؔ سے یہ میں پوچھا دل میں بھی کسی کو دوںوہ کر کے بیاں اپنی روداد بہت رویا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں