6 اشعار

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں

Gar keeji'e insaf to ki zor-e-wafa mein

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں

«گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میںخط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں

تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کیلیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں

رکھتا ہے کچھ ایسی وہ برہمن بچہ رفتاربت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ خدا میں

یارو نہ بندھی اس سے کبھو شکل ملاقاتملنے کو تو اس شوخ کے ترسا ہی کیا میں

جب میں گیا اس کے تو اسے گھر میں نہ پایاآیا وہ اگر میرے تو در خود نہ رہا میں

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

— محمد رفیع سودا