7 اشعار

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے

Naseem hai tere kuche mein aur saba bhi hai

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے

«نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہےہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے

ترا غرور مرا عجز تا کجا ظالمہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے

جلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سےکہیں ہے مہر بھی جگ میں کہیں وفا بھی ہے

خیال اپنے میں گو ہوں ترانہ سنجاں مستکراہنے کے دلوں کو کبھی سنا بھی ہے

زبان شکوہ سوا اب زمانہ میں ہیہاتکوئی کسو سے بہم دیگر آشنا بھی ہے

ستم روا ہے اسیروں پہ اس قدر صیادچمن چمن کہیں بلبل کی اب نوا بھی ہے

سمجھ کے رکھیو قدم خار دشت پر مجنوںکہ اس نواح میں سوداؔ برہنہ پا بھی ہے

— محمد رفیع سودا