7 اشعار

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

Maqdoor nahin us ki tajalli ke bayan ka

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

«مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کاجوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دےکھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا

ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخجوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکنجب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازارلیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا

ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہدنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

سوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تومضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا

— محمد رفیع سودا