9 اشعار

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

We sooratein ilahi kis mulk bastiyaan hain

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

«وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیںاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میںیہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں

کیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارااس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں

برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پرمژگاں کی یہ گھٹائیں اب تک برستیاں ہیں

لیتے ہیں چھین کر دل عاشق کا پل میں دیکھوخوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں

اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویںآنکھوں کو میری مژگاں ڈوروں سے کستیاں ہیں

قیمت میں ان کے گو ہم دو جگ کو دے چکے اباس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں

ان نے کہا یہ مجھ سے اب چھوڑ دخت رز کوپیری میں اے دوانے یہ کون مستیاں ہیں

جب میں کہا یہ اس سے سوداؔ سے اپنے مل کےاس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں