جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
کلام: محمد رفیع سودا
جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گاہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا
لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوںرحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گاہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا
لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوںرحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا
تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویالذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا
تصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھیانداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا