7 اشعار

جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے

Jo gul hai yahan so us gul-rukhsar saath hai

جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے

«جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہےکیا گل ہے وہ کہ جس کے یہ گل زار ساتھ ہے

تو مست شب اندھیری اور اغیار ساتھ ہےجو دل میں آوے کہہ یہ گنہ گار ساتھ ہے

خاموش عندلیب چمن تجھ سے کیا ہے بحثاپنا سخن تو مرغ گرفتار ساتھ ہے

پیغام اس نگہ کا کہ جس میں ہے بوئے مہرکیا جانے کس کے آخری دیدار ساتھ ہے

عقدہ نہ یہ کھلا کہ مرے دل سا پہلوانتجھ زلف کے بندھا ہوا اک تار ساتھ ہے

کرتے تو ہو مرے مرض دل کا تم علاجیارو جو دل یہی ہے تو آزار ساتھ ہے

سوداؔ کے ہاتھ کیوں کے لگے وہ متاع حسنلے نکلیں جس کو گھر سے تو بازار ساتھ ہے

— محمد رفیع سودا