9 اشعار

مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں

Mast-e-sahar o tauba-kunan shaam ka hoon main

مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں

«مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میںقاضی کے گرفتار نت اعلام کا ہوں میں

بندہ کہو خادم کو چاکر کہو مجھ کوجو کچھ کہو سو ساقیٔ گلفام کا ہوں میں

خدمت میں مجھے عشق کی ہے دل سے ارادتنے معتقد کفر نہ اسلام کا ہوں میں

یک روز حلال اس کو بھی میں کر کے نہ کھایانوکر جو خرابات میں دو جام کا ہوں میں

نے فکر ہے دنیا کی نہ دیں کا متلاشیاس ہستئ موہوم میں کس کام کا ہوں میں

یک رنگ ہوں آتی نہیں خوش مجھ کو دو رنگیمنکر سخن و شعر میں ایہام کا ہوں میں

مطلوب دعا حق میں نہیں اپنے کسو کیطالب لب محبوب سے دشنام کا ہوں میں

بندہ ہے خدا کا تو یقیں کر کہ بتاں کابندہ یہ جہاں بے زر و بے دام کا ہوں میں

ہے شیشۂ مے عینک پیری مجھے سوداؔنظارہ کن اب شیب کے ایام کا ہوں میں

— محمد رفیع سودا