6 اشعار

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا

Kehte hain log yaar ka abroo pharak gaya

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا

«کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیاتیغا سا کچھ نظر میں ہماری سڑک گیا

میں کیا کروں ادائے غضب ناک کا بیاںبجلی سا میرے سامنے آ کر کڑک گیا

نالے سے میرے گل تو ہوا چاک پیرہنبلبل ترا جگر نہ یہ سن کر تڑک گیا

کوئی گیا نہ خوف سے قاتل کے سامنےمیں ہی تھا اس کے رو بہ رو جو بے دھڑک گیا

مشکل پڑے گا پھر تو بجھانا جہان کاجو ٹک زیادہ عشق کا شعلہ بھڑک گیا

سوداؔ چرا چکا ہی تھا گلشن میں گل کو میںقسمت کو اپنی کیا کہوں پتا کھڑک گیا

— محمد رفیع سودا