7 اشعار

لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم

Le deeda-e-tar jidhar gaye hum

لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم

«لے دیدۂ تر جدھر گئے ہم» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

لے دیدۂ تر جدھر گئے ہمڈبرے جو تھے خشک بھر گئے ہم

تجھ عشق میں روز خوش نہ دیکھادکھ بھرتے ہی بھرتے مر گئے ہم

تیرا جو ستم ہے اس کی تو جاناپنی تھی سو خوب کر گئے ہم

یہ قطعہ پڑھے تھا سوز دل سےسودا کے جو رات گھر گئے ہم

جوں شمع لبوں پر آ رہا جیتن تھا سو گداز کر گئے ہم

اتنی بھی پتنگ پیش قدمی!گر شام نہیں سحر گئے ہم

ہوگی نہ کسی کو یہ خبر بھیاس مجلس سے کدھر گئے ہم

— محمد رفیع سودا