6 اشعار

اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا

Is baat ka malal nahin hai ke dil gaya

اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا

«اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیامیں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیا

جو حسن تو نے شکل کو بخشا وہ بول اٹھاجو رنگ تو نے پھول میں ڈالا وہ کھل گیا

ناکامیٔ وفا کا نمونہ ہے زندگیکوچے میں تیرے جو کوئی آیا خجل گیا

قسمت کے پھوڑنے کو کوئی اور در نہ تھاقاصد مکان غیر کے کیوں متصل گیا

مجھ کو مٹا کے کون سا ارماں ترا مٹامجھ کو ملا کے خاک میں کیا خاک مل گیا

مضطرؔ میں ان کے عشق میں بے موت مر گیااب کیا بتاؤں جان گئی ہے کہ دل گیا

— مضطر خیرآبادی