6 اشعار

آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا

Aarzoo dil mein banaye hue ghar hai bhi to kya

آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا

«آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیااس سے کچھ کام بھی نکلے یہ اگر ہے بھی تو کیا

نہ وہ پوچھے نہ دوا دے نہ وہ دیکھے نہ وہ آئےدرد دل ہے بھی تو کیا درد جگر ہے بھی تو کیا

آپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہیاور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا

دیر ہی کیا ہے حسینوں کی نگاہیں پھرتےمجھ پہ دو دن کو عنایت کی نظر ہے بھی تو کیا

صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میںدل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

میں بدستور جلوں گا یہ نہ ہوگی مضطرؔمیری ساتھی شب غم شمع سحر ہے بھی تو کیا

— مضطر خیرآبادی