8 اشعار

دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے

Door kyun jaaun yahin jalwa numa baitha hai

دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے

«دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہےدل مرا عرش ہے اور اس پہ خدا بیٹھا ہے

بت کدہ میں ترے جلوے نے تراشے پتھرجس نے دیکھا یہی جانا کہ خدا بیٹھا ہے

کیا ہوئے آنکھ کے پردے جو پڑے تھے اب تکبرملا حشر میں کیوں آج خدا بیٹھا ہے

نقش وحدت ہی سویدا کو کہا کرتے ہیںدل میں اک تل ہے اور اس تل میں خدا بیٹھا ہے

میں جو کہتا ہوں کہ کعبے کو نہ برباد کروہنس کے بت کہتے ہیں کیا دل میں خدا بیٹھا ہے

آسماں میں تری گردش سے نہیں ڈرتا ہوںتجھ کو کس بات کا غم سر پہ خدا بیٹھا ہے

چشم وحدت سے جو انسان ذرا غور کرےجس کو دیکھے یہی سمجھے کہ خدا بیٹھا ہے

اپنے مرنے کا ذرا غم نہ کرو تم مضطرؔیوں سمجھ لو کہ جلانے کو خدا بیٹھا ہے

— مضطر خیرآبادی