8 اشعار

حوصلہ امتحان سے نکلا

Hausla imtihan se nikla

حوصلہ امتحان سے نکلا

«حوصلہ امتحان سے نکلا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

حوصلہ امتحان سے نکلاجان کا کام جان سے نکلا

درد دل ان کے کان تک پہنچابات بن کر زبان سے نکلا

بے وفائی میں وہ زمیں والاہاتھ بھر آسمان سے نکلا

حرف مطلب فقط کہا نہ گیاورنہ سب کچھ زبان سے نکلا

کچھ کی کچھ کون سننے والا تھاکچھ کا کچھ کیوں زبان سے نکلا

اک ستم مٹ گیا تو اور ہواآسماں آسمان سے نکلا

جس سے بچتا تھا میں دم اظہاروہی پہلو بیان سے نکلا

وہ بھی ارمان کیا جو اے مضطرؔدل میں رہ کر زبان سے نکلا

— مضطر خیرآبادی