6 اشعار

آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں

Aatish-e-husn se ek aab hai rukhsaron mein

آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں

«آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میںاے تری شان کہ پانی بھی ہے انگاروں میں

دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لوتم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں

جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہدندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

نوبتیں نالۂ‌ رخصت کا پتا دیتی ہیںماتم عشق کی آواز ہے نقاروں میں

مجھ کو اس درد کی تھوڑی سی کسک ہے درکارجو دوا بن کے بٹا ہے ترے بیماروں میں

بے طلب اس نے دکھایا رخ روشن مضطرؔنام موسیٰ کا نہیں اس کے طلب گاروں میں

— مضطر خیرآبادی