10 اشعار

زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں

Zair-e-zameen rahoon ki tah-e-aasman rahoon

زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں

«زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوںاے جستجوئے یار بتا میں کہاں رہوں

مصروف شکر نعمت پیر مغاں رہوںاللہ مجھ کو یوں ہی پلائے جہاں رہوں

گھل کر بھی جانب در پیر غاں رہوںموج شراب ناب بنوں اور رواں رہوں

یارب حریق شعلۂ عشق بتاں رہوںدوزخ کی آگ لے کے مقیم جناں رہوں

ظالم یہ بزم حسن کا اچھا رواج ہےتو شمع ہو کے بھی نہ جلے میں تپاں رہوں

اے چشم یار موت کا پہلو بچا کے توایسی نگاہ ڈال کہ میں نیم جاں رہوں

آب حیات پی کے خضر کیا یہاں رہےمیں ٹھان لوں تو کچھ نہ پیوں اور یہاں رہوں

بن جائیں میری طرز فنا کی کہانیاںایسا مٹا کہ صاحب‌ نام و نشاں رہوں

ساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھےاس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں

مضطرؔ وجود ذات نے گھر تک بھی لے لیاجب خود وہ ہر جگہ ہے تو اب میں کہاں رہوں

— مضطر خیرآبادی