12 اشعار

وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے

Waqt-e-aakhir yaad hai Saqi ki mehmani mujhe

وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے

«وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھےمرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھے

وہ مری صورت تو دیکھیں اپنی صورت کے لیےکاش آئینہ بنا دے میری حیرانی مجھے

کٹ گیا ہے وصل سے پہلے زمانہ عمر کاہائے دھوکا دے گیا بہتا ہوا پانی مجھے

دامن صحرا سے لوں گا مر کے وحشت میں کفناک نیا جوڑا پنہائے گی یہ عریانی مجھے

میرے گل کو لا یا اپنے پھول لے جا عندلیبایسے کانٹوں سے نہیں پھانسیں نکلوانی مجھے

تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھولمیں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

تشنہ کامی اس کو کہتے ہیں کہ بحر عشق میںمیں اگر اتروں تو اوپر پھینک دے پانی مجھے

ایسی مشکل تم نے ڈالی ہے کہ جب مر جاؤں گامدتوں رویا کرے گی میری آسانی مجھے

تو نے اتنی دی کہ مے خواری کی حسرت بہہ گئیمیں نے اتنی پی کہ آخر ہو گئی پانی مجھے

رونے جاتا ہوں میں اپنی حسرتوں کے ڈھیر پربے کسی آ کر سکھا دے مرثیہ خوانی مجھے

حشر میں چلنا پڑے گا ایک ٹیڑھا راستہکوچۂ جاناں سکھا دے ٹھوکریں کھانی مجھے

مضطرؔ اپنے حق کے کانٹے چن کے میں رخصت ہوااور کیا دیتی بہار گلشن فانی مجھے

— مضطر خیرآبادی