9 اشعار

اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں

Ab is se badh ke kya nakamiyan hongi muqaddar mein

اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں

«اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میںمیں جب پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا میدان محشر میں

الٰہی نہر‌ رحمت بہہ رہی ہے اس میں ڈلوا دےگنہ گاروں کے عصیاں باندھ کر دامان محشر میں

کھلے گیسو تو دیدار‌ خدا بھی ہو گیا مشکلقیامت کا اندھیرا چھا گیا میدان محشر میں

شریک کثرت مخلوق تو کیوں ہو گیا یا ربتری وحدت کا پردہ کیا ہوا میدان محشر میں

قیامت تو ہماری تھی ہم آپس میں نبٹ لیتےکوئی پوچھے خدا کیوں آ گیا میدان محشر میں

کسی کا آبلہ پا قبر سے یہ پوچھتا اٹھاکہیں تھوڑے بہت کانٹے بھی ہیں میدان محشر میں

الٰہی درد کے قصے بہت ہیں وقت تھوڑا ہےشب فرقت کا دامن باندھ دے دامان محشر میں

نہ اٹھتے کشتگان ناز ہرگز اپنی تربت سےتری آواز شامل ہو گئی تھی صور محشر میں

تہہ مدفن مجھے رہتے زمانہ ہو گیا مضطرؔکچھ ایسی نیند سویا ہوں کہ اب جاگوں گا محشر میں

— مضطر خیرآبادی