5 اشعار

دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا

Dil le ke haseeno ne yeh dastoor nikala

دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا

«دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالادل جس کا لیا اس کو بہت دور نکالا

زاہد کو کسی اور کی باتیں نہیں آتیںآیا تو وہی تذکرۂ حور نکالا

دشمن کو عیادت کے لیے یار نے بھیجااچھا یہ علاج دل رنجور نکالا

اے تیر ستم چل تری دعوت ہے مرے گھرزخم‌ دل ناشاد نے انکور نکالا

وہ تذکرۂ غیر پہ جھنجھلا کے یہ بولےپھر آپ نے مضطرؔ وہی مذکور نکالا

— مضطر خیرآبادی