9 اشعار

عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں

Aish ke rang malaalon se dabe jate hain

عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں

«عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیںاب تو ہم اپنے ہی حالوں سے دبے جاتے ہیں

پاؤں رکھنا مجھے صحرا میں بھی دشوار ہے ابسارے کانٹے مرے چھالوں سے دبے جاتے ہیں

توبہ توبہ وہ مرے خواب میں کیا آئیں گےجاگتے میں جو خیالوں سے دبے جاتے ہیں

اللہ اللہ ری نزاکت ترے رخساروں کیاتنے نازک ہیں کہ کھالوں سے دبے جاتے ہیں

تو ہے کوٹھے پہ تو کترا کے نکلتی ہے گھٹاکالے بادل ترے بالوں سے دبے جاتے ہیں

کیا دبائیں گے ابھر کر ترے جوبن ظالمیہ تو خود دیکھنے والوں سے دبے جاتے ہیں

ان کو اے شوق طلب چھیڑ کے محجوب نہ کرجو محبت کے خیالوں سے دبے جاتے ہیں

بے طرح بار محبت تو پڑا ہے ان پرآپ کیوں چاہنے والوں سے دبے جاتے ہیں

بار ہوں دیدۂ ارباب سخن پر مضطرؔمدعی میرے کمالوں سے دبے جاتے ہیں

— مضطر خیرآبادی